تحریر: محترمہ انجم فاطمہ گھوسوی، استاد مدرسہ جامعہ بنت الہدیٰ، جونپور
حوزہ نیوز ایجنسی | رمضان المبارک اسلام میں اپنی اصلاح اور اللہ کے قریب ہونے کا خاص مہینہ ہے۔ رمضان صرف عبادات میں اضافہ کا نام نہیں بلکہ یہ انسان کو ہر لحاظ سے بہتر بنانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ مہینہ انسان کی جسمانی، ذہنی، روحانی اور معاشرتی تربیت کرتا ہے اور فرد و معاشرہ دونوں کی اصلاح کا ذریعہ بنتا ہے۔
1. روزے کی جسمانی اہمیت
دماغ پر اثرات
جب انسان روزہ رکھتا ہے تو اس کا معدہ اور نظامِ ہاضمہ کچھ وقت کے لیے آرام کرتے ہیں، جس سے جسمانی توانائی بہتر طور پر استعمال ہوتی ہے۔ روزہ رکھنے سے:
- توجہ میں اضافہ ہوتا ہے
- یادداشت بہتر ہوتی ہے
- ذہن صاف اور ہلکا محسوس ہوتا ہے
- عبادت اور تعلیم میں دل لگتا ہے
- دل اور صحت
روزہ جسم میں جمع اضافی چربی کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے، دل مضبوط ہوتا ہے، بلڈ پریشر قابو میں رہتا ہے اور جسم کا نظام بہتر طور پر کام کرتا ہے۔ اگر افطار اور سحری میں سادہ اور مناسب غذا استعمال کی جائے تو صحت کے لیے بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔
وزن اور نظم و ضبط
روزے کے دوران جسم پہلے سے جمع توانائی استعمال کرتا ہے، جس سے وزن متوازن رہتا ہے، جسم ہلکا محسوس ہوتا ہے اور نظم و ضبط پیدا ہوتا ہے۔ تاہم اگر افطار میں حد سے زیادہ کھایا جائے تو فائدہ کم ہو جاتا ہے۔
2. عبادت کی اہمیت
رمضان میں نماز، ذکر، دعا اور قرآنِ مجید کی تلاوت کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ قرآنِ کریم اسی مہینے میں نازل ہوا، اس لیے اس کی تلاوت کی خصوصی اہمیت ہے۔
- ذہنی سکون
- سجدہ سے دل کو سکون ملتا ہے
- ذکر سے دل کی گھبراہٹ کم ہوتی ہے
- دعا انسان کو امید اور حوصلہ دیتی ہے
- عبادات دل و دماغ کو پرسکون کرتی ہیں
- صبر اور شکر کی تربیت
روزہ انسان کو صبر سکھاتا ہے کیونکہ وہ بھوک اور پیاس برداشت کرتا ہے، اور افطار کے وقت نعمت ملنے پر شکر کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اس طرح انسان ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا سیکھتا ہے۔
3. روحانی فوائد
روزہ انسان کو اپنی خواہشات پر قابو پانا سکھاتا ہے، پرہیزگاری پیدا کرتا ہے، گناہوں سے بچنے کی عادت ڈالتا ہے اور اللہ سے تعلق مضبوط کرتا ہے۔ رمضان دل کو صاف کرنے اور گناہوں کی معافی مانگنے کا بہترین وقت ہے۔
4. معاشرتی فوائد
ہمدردی اور احساسِ ذمہ داری
جب انسان خود بھوکا رہتا ہے تو اسے غریبوں کی تکلیف کا احساس ہوتا ہے اور دل میں رحم پیدا ہوتا ہے۔
صدقہ اور زکوٰۃ
رمضان میں صدقہ، فطرہ اور زکوٰۃ کے ذریعے غریبوں کی مدد ہوتی ہے اور معاشرے میں مساوات اور بھائی چارہ قائم ہوتا ہے۔
عورتوں کی اجتماعی افطاری: روحانیت، بہن چارہ اور معاشرتی ہم آہنگی
رمضان میں اجتماعی افطار کا تصور صرف مردوں تک محدود نہیں، بلکہ عورتوں کی اجتماعی افطاری بھی ایک اہم دینی و سماجی عمل ہے جو کئی مثبت اثرات رکھتا ہے۔
1. بہن چارے اور روحانی ربط کا ذریعہ
جب خواتین ایک جگہ جمع ہو کر مل کر افطار تیار کرتی ہیں، دعا کرتی ہیں اور قرآن کی تلاوت سنتی یا کرتی ہیں تو روحانی فضا قائم ہوتی ہے۔ اجتماعی دعا میں دل نرم ہوتے ہیں اور باہمی محبت بڑھتی ہے۔ یہ تعلق صرف دنیاوی نہیں بلکہ ایمانی بنیادوں پر قائم ہوتا ہے۔
2. جذباتی سپورٹ سسٹم
عورتیں معاشرے کا حساس اور جذباتی ستون ہوتی ہیں۔ اجتماعی افطاری:
- تنہائی کم کرتی ہے
- گھریلو دباؤ میں کمی لاتی ہے
- ایک دوسرے کے مسائل سننے اور سمجھنے کا موقع دیتی ہے
نفسیاتی طور پر یہ سماجی سپورٹ ذہنی صحت کے لیے بہت اہم ہے، اور خواتین کے باہمی رابطے سے اضطراب اور ڈپریشن کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔
3. سخاوت اور خدمت کا جذبہ
اجتماعی افطاری میں ہر خاتون کچھ نہ کچھ تیار کر کے لاتی ہے، غریب خواتین اور مستحق بچیوں کو مدعو کیا جاتا ہے۔ یہ عمل صرف کھانا کھلانا نہیں بلکہ ایثار اور خدمت کی عملی تربیت ہے۔
4. دینی شعور میں اضافہ
اگر اجتماعی افطاری کے ساتھ مختصر درسِ قرآن، سیرت النبی ﷺ پر گفتگو یا ذکر و دعا کا اہتمام ہو تو یہ مجلس محض کھانے کی تقریب نہیں بلکہ روحانی محفل بن جاتی ہے۔ اس سے خواتین میں دینی اعتماد اور شعور مضبوط ہوتا ہے۔
5. نئی نسل کی تربیت
جب بچیاں اپنی ماؤں کے ساتھ ایسی مجالس میں شریک ہوتی ہیں تو انہیں اجتماعی عبادت کا ذوق، سخاوت، نظم و ضبط اور دین سے محبت کا سبق ملتا ہے۔ یہ تربیت آنے والی نسل کے کردار کی بنیاد رکھتی ہے۔
جہاں دل جمع ہوں، وہاں رحمت نازل ہوتی ہے
عورتوں کی اجتماعی افطاری اگر اخلاص کے ساتھ ہو تو وہ ایک روحانی دائرہ بن جاتی ہے جہاں دل نرم ہوتے ہیں، دعائیں قبولیت کے قریب ہوتی ہیں اور باہمی رنجشیں ختم ہوتی ہیں۔
توازن کی نصیحت
ضروری ہے کہ:
- سادگی اختیار کی جائے
- نمود و نمائش سے بچا جائے
- فضول خرچی نہ ہو
- عبادت کا پہلو غالب رہے
کیونکہ اصل مقصد روحانی ترقی ہے، نہ کہ سماجی مقابلہ۔
جامع پیغام
رمضان المبارک فرد کی تربیت، خاندان کی مضبوطی، معاشرے کی اصلاح اور عورت کے کردار کی تکمیل کا مہینہ ہے۔ اگر عورتوں کی اجتماعی افطاری شعور، اخلاص اور اعتدال کے ساتھ ہو تو یہ معاشرتی ہم آہنگی، روحانی بیداری اور نسلوں کی تربیت کا ایک مضبوط ذریعہ بن سکتی ہے۔
جس طرح مردوں کی اجتماعی افطاری کا اہتمام کیا جاتا ہے، اسی طرح عورتوں کی اجتماعی افطاری میں بھی بھرپور حصہ لیا جائے، تاکہ غریب اور مستحق بچیوں کو بھی ایسے پروگراموں میں شرکت کا موقع ملے اور وہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔









آپ کا تبصرہ